جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 279.770326 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی، گڑھی خدا بخش میں بڑا اجتماع، عام تعطیل کا اعلان
بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی، گڑھی خدا بخش میں بڑا اجتماع، عام تعطیل کا اعلان

بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی، گڑھی خدا بخش میں بڑا اجتماع، عام تعطیل کا اعلان

پاکستان کی سابق وزیراعظم اور دخترِ مشرق محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش پہنچ رہے ہیں۔ گاؤں اور اطراف کے علاقوں میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ آنے والے کارکنوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

اس موقع پر خاتون اول آصفہ بھٹو نے فریال تالپور کے ہمراہ محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی قبروں پر بھی پھول رکھے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی سمیت دیگر رہنماؤں اور جیالوں نے بھی بھٹو خاندان کی قبروں پر حاضری دی۔

حکومت سندھ نے محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے بھی آزاد کشمیر میں آج کے دن عام تعطیل دینے کا اعلان کیا۔

بینظیر بھٹو کا شمار پاکستان کی اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی بھر سخت حالات کا سامنا کیا لیکن جمہوریت کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، جبکہ ان کے دونوں بھائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے آمریت کے خلاف آواز بلند کی اور جلاوطنی کے دن بھی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے معروف تعلیمی اداروں سے حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی قوانین میں ڈگریاں حاصل کیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دونوں بیٹوں کے بجائے بینظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا، اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ درست تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران بینظیر بھٹو نے بیرون ملک رہ کر جمہوریت کی بحالی کے لیے آواز بلند کی۔ اپریل 1986 میں پاکستان واپسی پر عوام نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔

1988 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ بعد ازاں وہ 1993 میں دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں، تاہم دونوں حکومتوں کو مدت پوری کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔

2007 میں وطن واپسی کے بعد بینظیر بھٹو نے مختلف شہروں میں جلسے کر کے عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں ان کے استقبالی جلوس پر بم حملے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، مگر اس کے باوجود وہ عوام کے درمیان موجود رہیں۔

27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے واپسی پر ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئیں۔ بعد ازاں انہیں لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں والد اور بھائیوں کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں