کراچی: شہرقائد میں طوفانی اور موسلادھار بارش کے بعد صورتحال تشویشناک ہوگئی۔ شدید بارش کے نتیجے میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے مناظر عام ہو گئے۔ متعدد علاقوں میں گٹروں کا پانی ابل پڑا جبکہ گھروں میں بھی پانی داخل ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق ملیر، سرجانی، پی آئی بی، عیسیٰ نگری، گلشن حدید، کورنگی کازوے، نشتر بستی، شفیق کالونی اور سہراب گوٹھ سمیت کئی علاقے زیرِآب آ گئے ہیں۔ درجنوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں بند ہو کر رہ گئیں۔ ملیر اور لیاری ندی سمیت چھوٹے بڑے نالوں میں طغیانی کی کیفیت ہے۔
شدید بارش کے بعد کراچی میں انتظامیہ نے فوج اور رینجرز سے مدد مانگی۔ چیف سیکریٹری سندھ کی درخواست پر پاک فوج اور رینجرز اہلکار ریسکیو آپریشن میں پہنچ گئے۔ سپر ہائی وے شہباز گوٹھ کے قریب سے 9 بچوں سمیت 12 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
بارش کے نتیجے میں تھڈو ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہو گئی اور پانی موٹروے ایم-9 تک پہنچ گیا۔ سیلابی پانی اسکیم 33 اور سعدی ٹاؤن کے رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے رات شہر کی مختلف سڑکوں پر گزاری اور متاثرہ مقامات کا خود دورہ کیا۔ انہوں نے ایم-9 موٹروے، لیاری اور ملیر ندیوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شدید بارش کے باعث ندیوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق ملیر ندی میں کبھی اس قدر پانی نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نکاسی آب کی کوششیں جاری ہیں اور چار مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ کراچی میں 11 ستمبر تک مزید تیز بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سیو آور پاک
