جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 278.958326 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
ڈی جی  آئی ایس پی آر کا بڑا بیان مسئلہ افغانستان کی ریاستی پالیسیوں سے ہے، عوام سے نہیں
ڈی جی  آئی ایس پی آر کا بڑا بیان مسئلہ افغانستان کی ریاستی پالیسیوں سے ہے، عوام سے نہیں

ڈی جی  آئی ایس پی آر کا بڑا بیان مسئلہ افغانستان کی ریاستی پالیسیوں سے ہے، عوام سے نہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ افغانستان کے عوام سے نہیں بلکہ وہاں کی ریاستی پالیسیوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، کیونکہ پاکستان کبھی بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتا۔

منگل کے روز سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ریاست کی طرح مضبوط اور واضح فیصلے کرے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طالبان حکومت کب تک عبوری شکل میں رہے گی۔ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا، اور دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ہمیشہ ذمہ داری نبھاتا رہا ہے، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی کے لیے سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ ملک پر حملے بھی ہوں اور اسی وقت تجارت بھی جاری رہے۔ پاکستان کے نزدیک "اچھے” اور "برے” طالبان جیسی کوئی تقسیم نہیں، دہشتگرد جو بھی ہو، وہ دشمن ہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل ایک مکمل قانونی معاملہ ہے، اس پر غیر ضروری قیاس آرائی سے گریز کیا جائے۔ جیسے ہی اس معاملے کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے آئے گا، اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق غیر کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد ہونی چاہیے، کیونکہ بہت سے دہشتگردی کے واقعات میں یہی گاڑیاں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ریاست ہے اور ریاست کی طرح ہی ردِعمل دیتی ہے۔ "خون اور کاروبار ایک ساتھ نہیں چل سکتے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم پر حملے ہوں اور ہم خاموش ہو کر تجارت کرتے رہیں۔”

جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کی تحریک طالبان اور ٹی ٹی پی کے عمل سے واضح ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حق پر ہے، اور حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔

آخر میں انہوں نے بتایا کہ ایک سیاسی جماعت اور کچھ دیگر عناصر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرونِ ملک سے چلائے جا رہے ہیں، اور یہ اکاؤنٹس ریاست مخالف مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک 4 ہزار 9 سو 10 انسدادِ دہشتگردی آپریشن کیے جا چکے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً 232 آپریشن، جن کے دوران مجموعی طور پر 336 دہشتگردی کے واقعات پیش آئے۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں