اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات پر براہِ راست نگرانی کا اختیار حاصل کرنے کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ کمیشن نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے متعلق مجوزہ مسودہ وزارتِ پارلیمانی امور کو ارسال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، مجوزہ ترامیم شق 202، 208، 209 اور 215 میں تجویز کی گئی ہیں تاکہ انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
ترمیمی مسودے کے مطابق شق 208 میں تجویز دی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن کی نامزد کردہ ٹیم موجود رہے گی جو انتخابی عمل کا مشاہدہ کرے گی اور اس کی مفصل رپورٹ تیار کرے گی۔ یہ رپورٹ بعد میں پارلیمنٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی طرح شق 202 میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ انتخابی شیڈول کے اجرا کے بعد کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ممکن نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد انتخابی عمل کو غیر ضروری تاخیر یا الجھن سے بچانا ہے۔
مزید برآں، شق 215 میں خواتین کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹے پر عمل درآمد نہ کرنے والی سیاسی جماعت کو دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ خواتین کی سیاسی شرکت کو فروغ دینے اور پارلیمانی نمائندگی میں توازن لانے کے لیے کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یہ تجاویز ملک میں جمہوری عمل کو مستحکم کرنے، سیاسی جماعتوں کے اندر شفافیت بڑھانے، اور عوامی اعتماد بحال کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔
سوال: کیا الیکشن کمیشن پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی کرتا تھا؟
جواب: نہیں، پہلے یہ اختیار محدود تھا۔ اب مجوزہ ترمیم کے بعد کمیشن براہِ راست مانیٹرنگ کر سکے گا۔
سوال: ان ترامیم سے کس کو سب سے زیادہ اثر پڑے گا؟
جواب: تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو ان قوانین پر عمل کرنا لازم ہوگا۔
سوال: خواتین کے کوٹے پر عمل نہ کرنے پر کیا کارروائی ہوگی؟
جواب: ایسی جماعت کو دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔سوال: یہ ترامیم کب نافذ ہوں گی؟
جواب: منظوری کے بعد وزارتِ پارلیمانی امور اور پارلیمنٹ کے ذریعے قانون کا حصہ بننے پر یہ نافذ ہوں گی۔
سیو آور پاک
