جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 279.976926 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
چار میزائل فضا میں تباہ, سعودی عرب نے بڑا خطرہ ٹال دیا
چار میزائل فضا میں تباہ, سعودی عرب نے بڑا خطرہ ٹال دیا

چار میزائل فضا میں تباہ, سعودی عرب نے بڑا خطرہ ٹال دیا

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر کیے گئے میزائل حملے کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ حکام کے مطابق چار بیلسٹک میزائل شہر کی طرف داغے گئے تھے، لیکن سعودی فضائی دفاعی نظام نے انہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ میزائل ایران کی جانب سے فائر کیے گئے تھے۔ تاہم دفاعی نظام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے انہیں اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تباہ ہونے والے میزائلوں کا ملبہ شہر کے مختلف حصوں میں گرا، لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

واقعے کے دوران ریاض میں کئی مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ خاص بات یہ رہی کہ پہلی بار بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے موبائل فونز پر فضائی خطرے کے الرٹس موصول ہوئے، جس سے انہیں فوری صورتحال کا اندازہ ہوا۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شہر کے مغربی علاقوں، خاص طور پر سفارتی زون کے قریب، فضا میں میزائلوں کو تباہ ہوتے دیکھا گیا۔

حملے کے بعد حکام نے فوری طور پر سائرن بجائے اور شہریوں سمیت غیر ملکی افراد کو ہدایت دی گئی کہ وہ رش والی جگہوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں مزید نگرانی بڑھا دی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہونے والا تھا۔ اس اجلاس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایران سے جڑی کشیدگی پر بات چیت متوقع تھی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شریک ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم زیادہ تر حملے فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیے ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والا حملہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ اس بار شہریوں نے خود دھماکوں کی آوازیں سنیں اور پہلی بار باضابطہ وارننگ سسٹم کا تجربہ کیا۔ ماہرین کے مطابق اس جاری کشیدگی میں کمی کے آثار ابھی نظر نہیں آ رہے، جبکہ اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں۔

سعودی حکام نے واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری بھی خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہے۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں