جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 278.958326 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
عمران خان کی ہدایات اور علیمہ خان کا سخت ردِعمل عدالت میں کیا ہوا؟
عمران خان کی ہدایات اور علیمہ خان کا سخت ردِعمل عدالت میں کیا ہوا؟

عمران خان کی ہدایات اور علیمہ خان کا سخت ردِعمل عدالت میں کیا ہوا؟

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)  القادر کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح وہ القادر کیس کے سلسلے میں ہائیکورٹ پہنچیں، مگر وہاں جج صاحب موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق، جج صاحب کسی لنچ پر چلے گئے تھے اور بعد میں یہ اطلاع ملی کہ کیس کینسل کر دیا گیا ہے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جج ڈوگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہے، جبکہ شاہ رخ ارجمند نے جلد بازی میں یہ کہا کہ ججمنٹ کیلئے دو سے تین دن چاہئیں، جس کے بعد انتیس تاریخ مقرر کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ساری توجہ ہائیکورٹ پر ہوگی کیونکہ بانی اور ان کی اہلیہ کے ضمانت کیسز جلد سننے ضروری ہیں۔

علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی کی ہدایت پر پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نورین نیازی کے مطابق، آج خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ بانی سے ملنے آئے لیکن انہیں اجازت نہیں ملی۔ بانی نے وزیر اعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب ضرور آئے گا۔
انہوں نے علی امین گنڈاپور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت کی منتقلی خوش اسلوبی سے مکمل کی۔

نورین نیازی نے کہا کہ 26 نومبر اور مریدکے واقعے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے تاکہ عوام کو حقیقت پتہ چلے کہ ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔

بانی نے کہا کہ نو مئی واقعہ کا جوڈیشل کمیشن آج تک نہیں بنا جبکہ لوگوں کو دس دس سال کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ “عاصم لا” کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

بانی کا کہنا تھا کہ ڈکٹیٹرز کے دور میں امن ممکن نہیں، صرف جمہوری حکومت ہی ملک میں استحکام لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے پاس کوئی حل نہیں۔

بانی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انہیں پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ عوام سے براہِ راست رابطہ کر سکیں۔ ان کے مطابق، اگر جمعہ کے بعد بھی جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو احتجاج ناگزیر ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج 16 اکتوبر ہے جبکہ 16 جنوری کو القادر کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملزم کی ضمانت کا فیصلہ دو ماہ میں ہونا چاہیے مگر بانی کا کیس نو ماہ سے زیر التوا ہے۔

ان کے مطابق، بانی نے کبھی جج کے انتخاب میں دخل نہیں دیا لیکن وہ چاہتے ہیں کہ فیصلے جلد ہوں کیونکہ پاکستان میں 23 لاکھ سے زائد کیسز التوا کا شکار ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کا کیس دوسرے کیسز کی طرح نہیں چلایا جا رہا اور عدالتی آرڈر کے باوجود وزیر اعلیٰ کی ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بانی کا کیس آج بھی ڈی لسٹ کر دیا گیا، ورنہ شاید انصاف ہو جاتا۔

انہوں نے کہا کہ جب کیسز آزاد عدلیہ کے سامنے آئیں گے تو تمام تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ “ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انصاف جلد دیا جائے، کیونکہ انصاف میں تاخیر خود ناانصافی ہے۔”

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں