جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 278.958326 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
 اسلام آباد خودکش دھماکے میں بڑی پیشرفت افغان سیل پکڑا گیا، 4 سہولت کار گرفتار
 اسلام آباد خودکش دھماکے میں بڑی پیشرفت افغان سیل پکڑا گیا، 4 سہولت کار گرفتار

 اسلام آباد خودکش دھماکے میں بڑی پیشرفت افغان سیل پکڑا گیا، 4 سہولت کار گرفتار

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): وفاقی دارالحکومت کے جی-11 جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں ایک بڑا موڑ سامنے آگیا۔ حساس اداروں اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے چلنے والے ایک دہشتگرد نیٹ ورک کے 4 اہم سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک ٹی ٹی پی / فتنہ الخوارج سے منسلک تھا اور دھماکے کی منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھی اعلیٰ قیادت نے کی تھی۔
حملے میں 12 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

نیٹ ورک کیسے پکڑا گیا؟

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ خودکش بمبار کا مرکزی ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا تھا، جس نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کمانڈر سعید الرحمان عرف داداللہ نے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے ہدایات دیں کہ اسلام آباد میں ایک بڑا خودکش حملہ کیا جائے۔

داداللہ، جو اس وقت افغانستان میں موجود ہے، ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف بتایا جاتا ہے۔
اسی نے اپنے ساتھی شینا کو خودکش بمبار کی تصاویر بھیجیں تاکہ اسے پاکستان میں ریسیو کیا جا سکے۔

خودکش بمبار کون تھا؟

ملزم کی نشاندہی میں بتایا گیا کہ بمبار عثمان عرف قاری تھا، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین سے تعلق رکھتا تھا اور شینوارے قبیلے کا فرد تھا۔

پاکستان پہنچنے کے بعد
ساجد اللہ عرف شینا نے اسے اسلام آباد کے نواح میں ایک کرائے کے گھر میں رکھا۔

خودکش جیکٹ کہاں سے آئی؟

مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ
داداللہ کی ہدایت پر شینا نے پشاور کے آغان بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد منتقل کیا۔

حادثے والے دن شینا نے خود بمبار کو جیکٹ پہنائی اور شہر کے حساس مقام تک پہنچایا۔

سہولت کار بھی پکڑے گئے

• وہ شخص بھی گرفتار ہوچکا ہے جس نے بمبار کو کمرہ کرائے پر دیا تھا۔
• گھر کا مالک بھی حراست میں ہے، جس نے بیان میں کہا کہ گھر ایک خاتون کو بیچا گیا تھا مگر باقاعدہ تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ بمبار گزشتہ دو سالوں (2024 اور 2025) میں متعدد بار پاکستان آتا جاتا رہا تھا۔

مزید گرفتاریوں کا امکان

تحقیقی اداروں کے مطابق پورا سیل گرفتار ہوچکا ہے، تاہم مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں کیونکہ نیٹ ورک کافی عرصے سے پاکستان میں سرگرم تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا بیان

وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں بتایا کہ حملہ آور افغان شہری تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دہشتگرد کارروائیوں میں افغان عناصر کے شامل ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں