لاہور کی فیملی کورٹ میں ایک خاتون کے جہیز واپسی کے دعوے پر دلچسپ اور انوکھی کارروائی دیکھنے میں آئی، جہاں عدالت نے سامان منگوا کر موقع پر ہی لڑکی کے حوالے کر دیا۔
فیملی کورٹ کی جج رخسانہ امین نے گل زیب نامی خاتون کی درخواست پر سماعت کی۔ خاتون نے اپنے وکیل مجدد باجوہ کے ذریعے عدالت سے جہیز کا سامان واپس دلوانے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے پہلے سامان لانے کے لیے بیلف بھیجا، لیکن وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ زیادہ تر سامان خراب حالت میں ہے، جس کی وجہ سے خاتون نے لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد عدالت نے دوبارہ حکم جاری کیا، اور جب سامان پیش کیا گیا تو اس میں سے کافی چیزیں نئی لا کر رکھی گئی تھیں۔ عدالت نے خود سامان کھول کر چیک کیا اور جو چیزیں صحیح حالت میں تھیں وہ خاتون کے حوالے کر دیں، جبکہ خراب سامان شوہر کو واپس کر دیا گیا۔
سماعت کے دوران جج نے واضح حکم دیا کہ جو سامان خراب ہو چکا ہے، اس کی قیمت لڑکی کو ادا کی جائے تاکہ اس کا نقصان پورا ہو سکے۔
یاد رہے کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود جہیز کا سامان واپس نہ کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے خاتون کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
سیو آور پاک
