پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے صوبائی حکومت کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزراء کی گاڑیوں کے لیے سرکاری پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں فیول کی کمی اور اس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیا گیا ہے تاکہ عوام کے خزانے پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اخراجات کم کرنا ضروری ہے۔
پنجاب حکومت نے خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے معاشی اثرات کو دیکھتے ہوئے کئی غیر معمولی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت فی الحال صوبائی وزراء کے لیے سرکاری ایندھن کی فراہمی روک دی گئی ہے اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پیٹرولیم بحران ختم نہیں ہو جاتا۔
اس کے ساتھ ہی سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے دیے جانے والے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ساتھ چلنے والی اضافی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی کے ضروری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ایک گاڑی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ساتھ رہ سکے گی۔
پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں بھی اخراجات کم کرنے کے لیے "ورک فرام ہوم” پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں آئے گا جبکہ باقی ملازمین گھر سے کام کریں گے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ تاہم امتحانات اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے اور تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
سیو آور پاک
