اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی اس درخواست کو رد کر دیا ہے جس میں قطر یا دیگر عرب ممالک میں حماس کے رہنماؤں اور اہلکاروں کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق موساد نے یہ فیصلہ خطے کی حساس صورتحال اور ممکنہ سفارتی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔
اس فیصلے کے بعد یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا واقعی قطر اور دیگر عرب ریاستیں انٹیلی جنس اداروں پر اثر انداز ہو رہی ہیں یا نہیں؟ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر کا حماس اور مختلف ملیشیاؤں کے ساتھ پرانا تعلق رہا ہے، جبکہ اب سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ کہیں وہ موساد پر بھی مالی یا سیاسی اثر تو نہیں ڈال رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اسرائیلی قیادت اور موساد کے درمیان پالیسی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ حماس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، مگر قطر جیسے عرب ممالک میں براہ راست کارروائی کرنا بین الاقوامی تنازعات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
سیو آور پاک
