افغان طالبان رجیم کی جانب سے مبینہ جارحیت کے بعد پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن “غضب للحق” کے دوسرے روز افغان طالبان کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کے تقریباً 297 اہلکار ہلاک جبکہ 450 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 135 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ 89 چوکیاں مکمل طور پر تباہ کی گئیں جبکہ 18 اہم پوسٹوں پر پاکستانی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے نیو افغان 8 پوسٹ پر قبضہ کرنے کے بعد اسے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔ اسی طرح خیبر پوسٹ، نوشکی سیکٹر، اعلیٰ جرگہ تھانہ پوسٹ اور اوماری کیمپ کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ڈیلٹا پوسٹ کو بھی کارروائی کے دوران اڑا دیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ چترال میں کانڈکسی بیس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، پولیس ہیڈکوارٹرز اور ذاکرخیل پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی کارروائیوں کے بعد بعض مقامات پر افغان طالبان اہلکار چوکیاں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔
پاک فضائیہ نے بھی صوبہ لغمان میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان رجیم کے اسلحہ ڈپو اور اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا۔ ذرائع کے مطابق کابل، پکتیا اور قندھار سمیت افغانستان کے 29 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے تمام 53 حملوں کو ناکام بنایا اور ہر حملے کا بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران پاک فوج کے 12 جوان شہید جبکہ 27 زخمی ہوئے۔
صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔
سیو آور پاک
