کراچی (اسٹاف رپورٹ): اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محتاط زری پالیسی، مربوط مالیاتی اقدامات اور بہتر اقتصادی ہم آہنگی کے باعث معیشت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خدمات اور صنعتی شعبوں کی بحالی سے قومی پیداوار کی شرحِ نمو میں اضافہ ہوا ہے، تاہم معاشی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث درآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
ادارے کے مطابق جیوپولیٹیکل کشیدگی اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال نے برآمدی شعبے کی رفتار کو محدود کیا، لیکن ورکرز کی ترسیلات زر نے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا اور زرمبادلہ کی منڈی میں استحکام دیکھا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے منافع میں اضافے کے باعث حکومت کا مالیاتی خسارہ گزشتہ 9 سالوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہوکر 4.5 فیصد رہ گئی اور شرحِ سود میں بھی 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ کم بچتوں اور ساختی مسائل کے باعث نجی و سرکاری سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے۔ حکومت اب بھی بینکوں پر زیادہ انحصار کر رہی ہے جس سے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی محدود ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے پیداواری سرگرمیوں پر اثر ڈالا ہے جبکہ پیچیدہ ٹیکس قوانین اور زیادہ شرحِ ٹیکس پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ ساختی مسائل کے حل کے لیے مربوط پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ممکنہ سیلاب سے زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں معاشی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کی نچلی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔
سیو آور پاک
