پشاور میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا (پختونخوا) میں پائی جانے والی دہشت گردی محض خفیہ کارروائیاں نہیں بلکہ سیاسی اور مجرمانہ عناصر کا منظم گٹھ جوڑ ہے۔ ان کے بقول بعض مقامی و بیرونی عوامل نے اس ناسور کو ٹائید دی ہے، جس کے باعث مسئلہ طول پکڑ گیا ہے۔ جنرل صاحب نے صوبے کے بہادر لوگوں اور فورسز کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت ہے مل کر اس مسئلے کی جڑ ختم کرنے کا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور میں میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ فوج کا مقصد صوبے کے عوام کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی قربانیوں کا اعتراف کرنا اور دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی اہلکار گورننس کے خلا کو اپنے لہو سے پُر کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بہت سی بار سیاست نے اس حساس مسئلے کو الجھایا ہے۔ بعض مقامی طاقتیں اور مجرمانہ گروہ دہشت گردی کو سہولت فراہم کر کے اپنے سیاسی یا ذاتی مفادات پورے کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی فرد یا گروہ ریاست اور عوام کے مفادات کی قیمت پر اپنی ذات کی بھلائی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 2014 کے آرمی پبلک سکول واقعے کے بعد ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) بنایا گیا تھا، مگر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی دوبارہ بڑھنے لگی۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ مؤثر اور مکمل نفاذ کے بغیر پالیسیوں کے نتائج کم رہ جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان میں موجود پناہ گاہوں اور بیرونی مداخلتوں (جن میں انہوں نے بھارت کا کردار بھی حوالہ دیا) کو دہشت گردی کے سبب قرار دیا۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ برادر ملک افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ جو لوگ خارجی سہولت کاری کرتے ہیں اُن کے پاس تین راستے ہیں: (1) سہولت کار مجرموں کو ریاست کے حوالے کریں، (2) ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لیں، یا (3) ریاستی کارروائی کے لیے تیار رہیں — ورنہ ان کے خلاف قدم اُٹھایا جائے گا۔
جنرل صاحب نے کہا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹس کو مضبوط بنانے کے فیصلے 2014 اور 2021 میں کیے گئے تھے، مگر عمل درآمد میں کمی رہی۔ انہوں نے کے پی کی فورسز کو سراہا اور کہا کہ ان کی تعداد، وسائل اور تربیت میں اضافہ ناگزیر ہے — مثال کے طور پر ایک حوالہ دیا گیا کہ پولیس کی تعداد محدود رکھی گئی تھی، جو مسائل پیدا کرتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی عوام کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہی کرے گا۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ریاست کے ساتھ تعاون کریں، پھر چاہے وہ اطلاعات فراہم کرنا ہوں یا مقامی تعاون — یہ سب مل کر دہشت گردی کے خاتمے میں مدد دیں گے۔
سیو آور پاک
