راولپنڈی/ملتان: دریائے چناب میں نیا تباہ کن سیلابی ریلا تیز رفتاری سے جھنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث درجنوں علاقے شدید خطرے کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ریلا چند گھنٹوں میں مزید بستیاں اور کھیت ملیا میٹ کر سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت کے بعد دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ متعدد مقامات پر بند ٹوٹ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آ چکی ہے۔ تریموں بیراج پر پانی کی سطح تین لاکھ اکتیس ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی جبکہ چنیوٹ میں ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک کا ریلا تباہی پھیلانے لگا ہے۔
سیلابی ریلا ہیڈ پنجند میں داخل ہو گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ تین لاکھ دس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ہیڈ سے نکلنے والی تمام نہریں بند کر دی گئی ہیں تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ریلا اگلے دو دنوں میں گڈو بیراج تک پہنچ جائے گا۔
جنوبی پنجاب کی صورتحال
شیر شاہ روڈ پانی میں ڈوب چکا ہے جبکہ اوچ شریف کے قریب زمیندارہ بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں متاثر ہو گئی ہیں۔ کپاس، گنا، تل، چاول اور چارے جیسی اہم فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ شجاع آباد کینال میں پانی گنجائش سے تین گنا زیادہ ہو گیا ہے جس سے ملتان اور سورج میانی کے علاقے بھی خطرے میں ہیں۔
شورکوٹ میں درمیانے درجے کا سیلاب آ گیا ہے اور سلطان باہو پل سے دو لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک کا ریلا گزر چکا ہے۔ ریلوے لائن پر پانی آنے کی وجہ سے شورکوٹ–خانیوال سیکشن دوسرے روز بھی معطل رہا۔
مختلف اضلاع میں تباہی
پنڈی بھٹیاں، احمد پور سیال، لیاقت پور اور نور والا سمیت کئی علاقوں میں بستیاں پانی کی نذر ہو گئی ہیں۔ ہزاروں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے 1300 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاہم شدید پانی کی وجہ سے کئی دیہات تک پہنچنا اب بھی مشکل ہے۔
دوسری جانب دریائے راوی اور ستلج میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ ساہیوال، چیچہ وطنی اور عارف والا میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ چک یاسین کے سرکاری اسکول سمیت کئی علاقے پہلے ہی پانی میں گھر چکے ہیں۔
سندھ کی صورتحال
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کوٹری بیراج پر ریسکیو 1122 کے کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ وزیر زراعت سندھ محمد بخش مہر نے گڈو بیراج اور کشمور کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے لیکن سات لاکھ کیوسک کا ریلا آنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
پس منظر
یاد رہے کہ دریائے پنجند پر پنجاب کے پانچ بڑے دریا جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج آ کر ملتے ہیں۔ یہی سنگم اب اس وقت ملک بھر کے زرعی اور رہائشی علاقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔
سیو آور پاک
