جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 279.077426 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
روس کے تیل پر پابندی نرم، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیوں؟
روس کے تیل پر پابندی نرم، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیوں؟

روس کے تیل پر پابندی نرم، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیوں؟

امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر عائد پابندیوں میں 30 دن کے لیے نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی آج پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ایران سے جاری کشیدگی کے باعث غیر مستحکم ہونے والی عالمی توانائی مارکیٹ کو سنبھالنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میں مالی قیمت کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ محفوظ ذخائر مارکیٹ میں لانے کے اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ صرف ایک دن کے اندر تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 9.29 ڈالر اضافے کے بعد 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 9.02 ڈالر مہنگا ہو کر 96.27 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ زیر غور ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 51 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 81 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا آج نئی قیمتوں سے متعلق سمری حکومت کو بھیجے گا، جس کے بعد حکومت منظوری دے کر نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دی جائے۔ اس کے علاوہ پیٹرول میں ملاوٹ روکنے کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیا گیا تو مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے اور عام شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت پہلے ہی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر چکی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت تقریباً 321 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں