آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی ساحل پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں گرفتار زخمی حملہ آور پر باقاعدہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق آسٹریلین پولیس نے بتایا ہے کہ بونڈی بیچ پر فائرنگ کرنے والے زخمی حملہ آور پر دہشتگردی سمیت مجموعی طور پر 50 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب فلپائن کے صدارتی ترجمان کلیری کاسترو نے واضح کیا ہے کہ بونڈی حملہ آوروں کے فلپائن کے دورے کے دوران دہشتگردی کی کسی بھی قسم کی تربیت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں فلپائن کو داعش کے تربیتی مرکز کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔
فلپائن کے فوجی ترجمان کرنل فرانسل پیڈیلا نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سال 2024 کے آغاز سے اب تک ملک میں کوئی بڑے انسداد دہشتگردی آپریشن نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق باغی گروہ منتشر ہو چکے ہیں اور ان کی کوئی منظم قیادت موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ تین روز قبل سڈنی کے بونڈی ساحل پر دو مسلح افراد نے فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے بعد ایک حملہ آور کو پولیس نے موقع پر ہی گرفتار کر لیا تھا، جبکہ دوسرا پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا تھا۔
حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ساجد اکرم کے نام سے ہوئی تھی، جو بھارت کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد کا رہائشی تھا۔ اس کے بیٹے نوید اکرم کے پاس آسٹریلین شہریت ہے۔ ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا گیا تھا، جبکہ نوید اکرم کی پیدائش آسٹریلیا میں ہی ہوئی تھی۔
سیو آور پاک
