افغانستان کی طالبان حکومت نے تاجکستان کے سرحدی علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے، جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے، پر چین اور تاجکستان دونوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ اُن عناصر کی کارروائی ہوسکتی ہے جو خطے میں انتشار، بےچینی اور ممالک کے درمیان بداعتمادی پھیلانا چاہتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے واقعات کا مقصد علاقائی امن کو نقصان پہنچانا اور پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے تاجکستان حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ طالبان انتظامیہ واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تمام معلومات کا تبادلہ، تکنیکی معاونت اور مشترکہ تحقیقات کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
واضح رہے کہ 26 نومبر کی رات افغانستان کی سمت سے تاجکستان کی سرحد کے قریب ایک ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں تین چینی شہری ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد چین کے سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر سرحدی علاقوں سے نکلنے کی ہدایت جاری کی اور تاجک حکام سے اس حملے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سیو آور پاک
