وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان گٹھ جوڑ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس ایسے واضح ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو دشمن عناصر کے ذریعے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ پلیٹ فارم ملک میں اتحاد، رواداری اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت علما کرام اور اقلیتی برادری نے بھرپور قربانیاں دیں، جبکہ آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے جان و مال کی قربانی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ یہاں سب کو بلا امتیاز برابر حقوق حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی سمت آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے جن کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے۔ ان وسائل کو درست طریقے سے استعمال کر کے ملک سے غربت، بے روزگاری اور قرضوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مئی 2025 کے ایک اہم معرکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر افواجِ پاکستان نے معرکۂ حق میں بھارت کو واضح شکست دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی افواجِ پاکستان کی جرات، اعلیٰ تربیت اور مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ تھی، جس کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا درپیش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور چاروں صوبوں کے شہداء نے اپنے خون سے اس وطن کی حفاظت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی قربانیاں دیں بلکہ دنیا کو بھی دہشت گردی سے محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا، جس پر عالمی برادری کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے درمیان گٹھ جوڑ کے تمام شواہد پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ دشمن قوتیں دہشت گرد تنظیموں کو وسائل فراہم کر رہی ہیں، تاہم ماضی کی طرح آج بھی دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ پیچیدہ قومی مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنا ہوگا تاکہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھتا رہے۔
سیو آور پاک
