واشنگٹن (3 ستمبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بار انہوں نے براہِ راست چین کے صدر شی جن پنگ پر الزام لگایا ہے کہ وہ روس اور شمالی کوریا کے ساتھ مل کر امریکا کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے یہ الزام اس وقت عائد کیا جب بیجنگ میں چین کی سب سے بڑی فوجی پریڈ جاری تھی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا:
"براہ کرم ولادیمیر پیوٹن اور کم جونگ اُن کو میری نیک تمنائیں پہنچا دینا، جب آپ لوگ امریکا کے خلاف سازش میں مصروف ہوں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا نے ماضی میں جاپان کو چین کی آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن آج حالات ایک بالکل مختلف رخ اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف واشنگٹن بلکہ پورے ایشیا میں ہلچل مچا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کی فوجی پریڈ کو براہِ راست امریکا کے لیے خطرہ نہیں سمجھتے، بلکہ وہ اب بھی شی جن پنگ کے ساتھ اپنے "بہترین تعلقات” پر زور دیتے ہیں۔ دوسری جانب جاپان کے اعلیٰ سرکاری ترجمان نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے پریڈ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ایشیا کی بڑی معیشتیں تعمیری تعلقات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ادھر بیجنگ میں فوجی پریڈ کے دوران شی جن پنگ نے اپنی تقریر میں دنیا کو امن کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ "انسانیت کے پاس دو ہی راستے ہیں – جنگ یا امن۔ ہمیں امن کا انتخاب کرنا ہوگا۔” ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ چین کبھی توسیع پسندی کی پالیسی اختیار نہیں کرے گا اور اپنے ماضی کی مشکلات کسی دوسرے ملک پر نہیں ڈالے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی نئی سطح پر داخل ہو سکتے ہیں۔
سیو آور پاک
