متحدہ عرب امارات کی میڈیا کونسل نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلنے والے مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا اور سخت قانون متعارف کروایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریاست، مذہب، اور قومی اقدار کے احترام کو فروغ دینا اور آن لائن دنیا میں نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا انفلوئنسرز، اور آن لائن مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے لائسنس اور اجازت نامے حاصل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
⚖️ اہم جرمانے اور سزائیں:
| خلاف ورزی | جرمانہ / سزا |
| غلط معلومات یا نقصان دہ مواد کی اشاعت | 5,000 سے 150,000 درہم تک |
| نوجوانوں کی تضحیک یا تباہ کن خیالات کو فروغ دینا | 100,000 درہم تک |
| مجرمانہ سرگرمیوں (قتل، منشیات، عصمت دری) پر اکسانا | 150,000 درہم تک |
| مذہبی عقائد یا دیگر مذاہب کی توہین | 1,000,000 درہم تک |
| ریاستی قیادت یا قومی علامتوں کی توہین | 500,000 درہم تک |
| قومی اتحاد یا خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچانا | 250,000 درہم تک |
| ریاستی اداروں یا حکمرانی کے نظام کی توہین | 50,000 تا 500,000 درہم |
| پالیسیوں یا قومی امیج کو نقصان پہنچانے والا مواد | 50,000 تا 500,000 درہم |
| سوشل میڈیا پر غیر ملکی تعلقات یا اتحاد کو نقصان پہنچانے والا مواد | 250,000 درہم تک |
نئے قانون میں میڈیا سے منسلک تمام افراد کے لیے شفافیت، جوابدہی، اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا دونوں کے لیے سخت لائسنسنگ پالیسی اپنائی گئی ہے۔
- ہتک عزت یا بہتان تراشی پر 20,000 درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
- بغیر لائسنس میڈیا سرگرمیاں چلانے والوں پر:
- پہلا جرم: 10,000 درہم
- مکرر جرم: 40,000 درہم
- پہلا جرم: 10,000 درہم
- بغیر منظوری کے اضافی میڈیا سرگرمی پر:
- پہلا جرم: 5,000 درہم
- مکرر جرم: 16,000 درہم
- پہلا جرم: 5,000 درہم
- لائسنس کی تجدید میں تاخیر: 150 درہم فی دن (زیادہ سے زیادہ 3,000 درہم تک)
بغیر تجارتی لائسنس کے سوشل میڈیا پر فروخت کرنے والوں پر 500,000 درہم تک جرمانہ، سامان ضبط اور ممکنہ قید بھی ہو سکتی ہے۔
سیو آور پاک
