جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 279.612926 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ، خطہ جنگ کی لپیٹ میں
ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ، خطہ جنگ کی لپیٹ میں

ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ، خطہ جنگ کی لپیٹ میں

امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں کئی مقامات پر میزائل گرے اور زور دار دھماکے سنے گئے۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق ابتدائی حملہ تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کیا گیا۔ صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے تہران سمیت کئی شہروں میں تقریباً 30 مقامات پر میزائل داغے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ حملے ایک مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ تھے اور اس کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق تہران کے مرکزی علاقوں میں تین بڑے دھماکے ہوئے۔ تہران یونیورسٹی روڈ، جمہوری اسکوائر اور حسن آباد اسکوائر کے اطراف عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ بعد ازاں ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ عراق نے بھی احتیاطاً فضائی حدود معطل کر دیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے بعد اصفہان، قم، کرج، تبریز، کرمانشاہ اور خرم آباد میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروس متاثر ہوئی جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی اور ٹریڈنگ روک دی گئی۔ شہریوں نے دارالحکومت چھوڑنا شروع کر دیا اور پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔

ادھر امریکی سفارتخانے نے قطر میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے حکم تک محفوظ مقامات پر رہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف یہ حفاظتی کارروائی تھی۔ اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت دی گئی اور ملک بھر میں اسکول بند کر دیے گئے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بھی شہری پروازوں کے لیے بند کر دیں۔

روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں ایران کے کئی فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل کی طرف درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ان حملوں کے بعد اسرائیل بھر میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا جبکہ شمالی شہر حیفہ میں بھی زور دار دھماکے سنے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بیان جاری کیا کہ ایران دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور میزائل و ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال اب تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں