امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر نیویارک میں منشیات اور غیر قانونی ہتھیاروں کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مادورو کو امریکی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا اور انہیں امریکی قوانین کے تحت مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واشنگٹن میں یہ بھی عندیہ دیا جا رہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت وینزویلا کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔ تاہم دوسری جانب وینزویلا نے امریکہ پر "فوجی جارحیت” کا الزام لگاتے ہوئے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بڑے پیمانے پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو تحویل میں لے لیا اور فوری طور پر انہیں امریکہ منتقل کر دیا۔ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام نے اس عمل کو گرفتاری قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی فورسز نے وینزویلا کے اندر کارروائی کی اور صدر مادورو کو حراست میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
وینزویلا نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی زندگی کے بارے میں فوری طور پر واضح ثبوت فراہم کیے جائیں۔ سرکاری بیان میں اس کارروائی کو کھلی فوجی جارحیت قرار دیا گیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر مادورو پر امریکہ میں باقاعدہ قانونی مقدمہ چلایا جائے گا۔ ایک امریکی سینیٹر کے مطابق اس وقت وینزویلا کے خلاف مزید کارروائی کی توقع نہیں کی جا رہی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دارالحکومت کراکس میں دھماکوں کے بعد دھویں کے بڑے بادل دیکھے گئے، جبکہ بعض عینی شاہدین نے خوف اور افراتفری کے مناظر بیان کیے ہیں۔
سیو آور پاک
