راولپنڈی میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سخت لہجے میں واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کسی عام سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایسے ذہن کی پیداوار ہیں جو صرف اپنی ذات کے سحر میں گرفتار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص جو مسلسل نئی کہانیاں بنا کر بیانیہ تشکیل دے رہا ہے، قومی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیفنس آف فورسز ہیڈکوارٹر کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جو مستقبل میں جدید جنگی حالات اور ہائبرڈ وارفیئر کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ دور کی جنگ روایتی نہیں رہی، اس لیے اس شعبے میں سیاست یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی ایک علاقے، زبان یا سیاسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ پورے ملک کے تمام طبقات اور قومیتوں کے لوگ اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے فوج نہ تو کسی جماعت کا ایجنڈا لیتی ہے اور نہ اس کی سیاست میں شامل ہوتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اُن کے اس بیان کا مقصد اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ اُن کے مطابق وہ شخص اپنی مایوسی اور ذاتی انا میں اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ ریاست کی سالمیت سے بھی اوپر اپنی خواہشات کو رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسا بیانیہ اب پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے باقاعدہ خطرہ بن چکا ہے۔
▶ ذہنی مریض کے ٹوئٹس اور بھارت–افغانستان کا کردار
انہوں نے کہا کہ یہ سوال اہم ہے کہ آخر کون چاہتا ہے کہ وہ فوج—جو خوارج کے خلاف ڈھال بنی ہوئی ہے—پر مسلسل حملے ہوں؟ ان کے مطابق یہ بیانیہ پہلے اس شخص کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اٹھتا ہے، پھر بھارتی اور افغان میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر آگے لے جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص اکاؤنٹ پوری جماعت کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے، اور پھر وہی مواد بھارتی میڈیا اور افغان پلیٹ فارمز پر پھیلتا ہے۔ یہ کوئی مفت کی سرگرمی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ مہم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ذہنی مریض کی ٹوئٹ کی ٹائمنگ دیکھیں—پہلے ٹوئٹ آتی ہے، پھر چند ہی لمحوں میں بھارتی اور افغان میڈیا اسے بڑے بیانیے میں بدل دیتا ہے۔
▶ "اب بات بہت آگے نکل چکی ہے”
انہوں نے کہا کہ اب حالات اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں کھل کر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بیانیے کو اجازت نہیں دی جا سکتی جو پاکستان کی سلامتی اور دفاعی اداروں کو نشانہ بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی مریض نے دو دن پہلے جو ٹوئٹ کی، اسے بھارتی میڈیا نے ایسے اٹھایا جیسے یہ ان کا پسندیدہ موضوع ہو۔ بھارتی چینلز پر کئی گھنٹے یہی پروپیگنڈا چلتا رہا کیونکہ وہ پاک فوج کے خلاف ہے۔
▶ "اپنی سیاست خود کرو… فوج کو اس میں نہ گھسیٹو”
انہوں نے کہا کہ فوج پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ وہ سیاست سے دور رہتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جو بے نامی اکاؤنٹس چل رہے ہیں، ان میں سے اکثر بیرونِ ملک سے آپریٹ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان اکاؤنٹس کو مواد یہیں سے ملتا ہے، اور پھر بھارتی میڈیا اسے اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے۔
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون نے بھارتی چینل پر بیٹھ کر خیبر پختونخوا کے لوگوں کو "ہلہ بولنے” کا مشورہ دیا۔ یہ وہی چینلز ہیں جو پاکستان کے خلاف خوشی سے خبریں چلاتے ہیں۔
▶ "جو فوج میں آئے وہ غدار؟”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے حیرت کا اظہار کیا کہ وہ شخص یہاں تک کہہ رہا ہے کہ جو بھی اس کی پارٹی سے سائڈ کر کے فوج سے بات کرے، وہ غدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوچ پہلے بھی تباہی لا چکی ہے، اور آج پھر وہی ذہنی کیفیت دہرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بین الاقوامی میڈیا کو بھی اپنی جھوٹی کہانیوں میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سارے کھیل کا مقصد صرف ایک ہے—پاک فوج کو کمزور دکھانا۔
▶ "9 مئی کے واقعات کس نے کروائے؟”
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملوں میں شہدا کی یادگاروں کو جلایا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا—یہ سب کچھ ایک شخص کے اشارے پر ہوا۔
انہوں نے پوچھا کہ جب ایک صوبے کی حکومت بھی ان کے پاس ہے، تو پھر فوج کے خلاف بیانیہ بنانے کی کیا منطق ہے؟
کیوں نہ دہشت گردی، بھارت کے خطرات یا معاشی صورتحال جیسے اصل مسائل پر بات کی جائے؟
▶ "یہ بیانیہ اب نیشنل سکیورٹی ایشو ہے”
آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہ معاملہ اب صرف سیاست کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چند لوگ ایک آفیسر کی تصویر لے کر پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہ سیاست ہے نہ آزادیِ اظہار—یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس کا مقصد اداروں کو نقصان پہنچانا ہے۔
سیو آور پاک
