وفاقی وزیر تجارت و صنعت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ملک میں مہنگی بجلی کے مسئلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے آج تک مہنگے ونڈ اور کول پاور پلانٹس کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع نہیں کیے، اور اس کا بوجھ پوری قوم برداشت کر رہی ہے۔ دوسری طرف کم قیمت والے تھرمل پاور پلانٹس سے بجلی پیدا ہی نہیں کی جا رہی۔
گوہر اعجاز، جو اکنامک پالیسی اور بزنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین ہیں، نے کہا کہ مہنگے معاہدوں پر تاحال عمل جاری ہے اور صارفین اب بھی ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کے مطابق ونڈ اور سولر پلانٹس کا ٹیرف 20 روپے سے 47 روپے فی یونٹ تک جا رہا ہے، جبکہ تھرمل پاور پلانٹس کا نرخ صرف 11 سے 18 روپے فی یونٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیرف میں بہت بڑا فرق موجود ہے، اس کے باوجود سستے تھرمل پلانٹس سے انتہائی کم بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔
گوہر اعجاز کے مطابق مہنگے متبادل توانائی معاہدوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت غیر ضروری طور پر بڑھ رہی ہے، جبکہ تھرمل پلانٹس، جو کم نرخ پر بجلی دے سکتے ہیں، تقریباً غیر فعال ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اب تک مہنگے ونڈ اور کول پاور پلانٹس کے ساتھ بیٹھ کر دوبارہ بات چیت شروع نہیں کر سکی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پوری قوم مہنگی بجلی کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف اسٹرکچر کی وجہ سے صنعتوں پر اضافی کراس سبسڈی ڈال دی گئی ہے۔ سیاسی فیصلے معاشی حقائق پر حاوی ہو رہے ہیں، جس کا نقصان ملکی معیشت کو پہنچ رہا ہے۔ گوہر اعجاز نے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر مہنگے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرے اور ٹیرف اسٹرکچر خالصتاً معاشی میرٹ پر ترتیب دے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتی غفلت کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور ملکی ترقی کی رفتار آگے بڑھنے کے بجائے رُک گئی ہے۔
سیو آور پاک
