توشہ خانہ ٹو کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ سامنے آ گیا ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان مجرمانہ خیانت کے مرتکب پائے گئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف الزامات ثابت ہوئے، جس کے بعد انہیں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 کے تحت 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ انسدادِ رشوت ستانی ایکٹ کے تحت عمران خان کو مزید 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو بھی مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت کے مطابق دونوں ملزمان پر فی کس ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر ملزم کو مزید 6، 6 ماہ قید بھگتنا ہو گی۔
فیصلے میں عدالت نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ سزا سناتے وقت بعض قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔ عمران خان کو ان کی زائد عمر جبکہ بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی بنیاد پر کم سے کم سزا دی گئی۔ اس کے علاوہ ملزمان کی حوالات میں گزاری گئی مدت کو بھی سزا کا حصہ شمار کیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس سے متعلق کئی اہم قانونی نکات واضح ہو گئے ہیں، جبکہ یہ معاملہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی زیر بحث ہے۔
سیو آور پاک
