ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے زیادہ تر دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں، اور اس کی بڑی وجہ وہاں دہشتگردوں کے لیے موجود سازگار ماحول ہے۔
سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس دہشتگردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب آپریشن کیے گئے۔ ان کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جبکہ دہشتگردی کے پانچ ہزار سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہوئے۔ ان واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 1235 افراد شہید ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاست پاکستان دہشتگردی کے خلاف مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پاکستان سے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ انسداد دہشتگردی آپریشن کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے پی میں چودہ ہزار سے زائد آپریشن ہوئے جبکہ بلوچستان میں اٹھاون ہزار سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی سینکڑوں آپریشن کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا دوبارہ سر اٹھانا 2021 سے شروع ہوا، جب افغانستان میں حالات بدلے اور بعض گروہوں نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے بعد پاکستان نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور واضح پیغام دیا کہ ریاست اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ اگر آج اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں اسکولوں، دفاتر اور گلی محلوں میں بھی حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو سراہ رہی ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہی دہشتگردی کے خاتمے کا واحد حل ہے۔
سیو آور پاک
