منگل , 21 اپریل 2026 | 1 USD = 278.768421 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 504500.00 روپے
ایران پر بڑے حملے کی دھمکی, ٹرمپ کا خطرناک بیان سامنے آگیا
ایران پر بڑے حملے کی دھمکی, ٹرمپ کا خطرناک بیان سامنے آگیا

ایران پر بڑے حملے کی دھمکی, ٹرمپ کا خطرناک بیان سامنے آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد جلد پاکستان پہنچنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وفد میں اہم شخصیات شامل ہیں، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، ایلچی اسٹیو وٹکوف اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ یہ وفد اسلام آباد پہنچ کر ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کا حصہ بنے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب دونوں جانب سنجیدگی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بڑی پیش رفت سامنے آتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران مکمل طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کرے۔ ان کے مطابق اگر ایران ایسا کر لیتا ہے تو وہ ایک بہتر اور مستحکم ملک بن سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا ایران کے درست لوگوں سے بات کر رہا ہے اور انہیں ایرانی قیادت سے ملاقات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، بشرطیکہ دوسری جانب سے بھی سنجیدگی دکھائی جائے۔

تاہم ٹرمپ نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران پر شدید بمباری کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ایرانی وفد اسلام آباد آئے گا یا نہیں، لیکن ان کے خیال میں انہیں وہاں ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو شامل ہونے کا نہیں کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی قیادت سمجھداری کا مظاہرہ کرے تو ان کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا وفد اسلام آباد نہیں بھیج رہا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا اور مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی عملی قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔

ایرانی قیادت نے مزید کہا کہ امریکا نے ان کے ایک جہاز پر حملہ کیا اور اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی، جبکہ ایرانی بحریہ کے خلاف ناکہ بندی بھی جاری ہے، جس سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ اسی حوالے سے مذاکرات کے دوسرے دور کے آغاز کی توقع کی جا رہی ہے، لیکن ابھی تک صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

About A.M JAN

Check Also

 ٹرمپ کا بڑا سرپرائز, ایران کے بارے میں کل کیا ہونے والا ہے؟

 ٹرمپ کا بڑا سرپرائز, ایران کے بارے میں کل کیا ہونے والا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا …

جواب دیں