پنجاب اسمبلی، لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے اسمبلی ہال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر ملک میں سول وار کی کوششوں پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے ساتھ ساتھ 24 اور 26 تاریخ کو بھی ملک میں انتشار پھیلانے کی سازش کی گئی، مگر ریاست نے بروقت سختی دکھا کر اس کو ناکام بنایا۔
رانا ثناء اللہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سول وار کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کی کوششوں کو روکا نہ گیا تو پاکستان کی سالمیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی بھی سیاسی دھڑا ہو، ایسے عناصر کو سختی کے ساتھ کچلنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فوجی قیادت پر بھی بات کی۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب آرمی چیف کی مدت چار سال ہوا کرتی تھی، پھر یہ تین سال کر دی گئی۔ لیکن اب آرمی چیف کی مدت پانچ سال تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس مدت کا اختتام 2027 میں ہوگا، اور اس کے بعد ایکسٹینشن کا معاملہ زیرِ بحث آسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 78 سالوں میں قوم کو ایک ایسا موقع دیا ہے کہ وہ فخر سے سر بلند کر سکے۔ ان کے بقول یہ کارنامہ ایک معرکہ حق کے طور پر ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
سیو آور پاک
