مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ دیا یا نہ دیا، وہ اس خطے کی ترقی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
گلگت میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے حمایت مانگتے ہیں اور کبھی بھی کسی کی مخالفت یا تنقید کو ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بناتے۔ انہوں نے جلسے میں شریک عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سے ان کا تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ دلی محبت کا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اپنے دورِ حکومت میں وہ کئی مرتبہ گلگت اور سکردو کا دورہ کر چکے ہیں، تاہم آج یہاں آنے والی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے خلاف بات کرنے نہیں آئے بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کے دور میں گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں اہم شاہراہوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ برسوں میں اس خطے کی ترقی کے منصوبوں کو مطلوبہ اہمیت کیوں نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق گلگت سے سکردو تک سڑک کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ کیے گئے تھے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے متعدد ہائیڈل پاور منصوبے شروع کیے تھے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ کئی منصوبے اب تک مکمل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موٹرویز کے جال، توانائی کے منصوبوں اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے جیسے اقدامات ان کی حکومت کی کارکردگی کا حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر عوام نے انہیں ووٹ دیا یا نہ دیا، وہ پھر بھی گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ حکومت میں آئی تو وہ ہر چند ماہ بعد خود گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے سکیں۔
نواز شریف نے گلگت ایئرپورٹ کی جدید طرز پر ترقی نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کئی اہم منصوبے برسوں تک تاخیر کا شکار رہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی کے مسائل کم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ ساتھ ہی انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ شہباز شریف اور مریم نواز بھی اس خطے کا دورہ کریں اور عوام کے مسائل کو قریب سے دیکھیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے خنجراب پاس تک سڑکوں کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے بات کریں گے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے اس علاقے کی ترقی پورے ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے نوجوانوں اور طلبہ کے لیے مختلف اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قابل طلبہ کو اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے جبکہ نوجوانوں کو بلا سود قرضے اور روزگار کے مزید مواقع دینے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ان کا مقصد صرف ووٹ حاصل کرنا نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی وہ خود کریں گے تاکہ کام بروقت اور بہتر انداز میں مکمل ہو سکے۔
سیو آور پاک
