گلگت بلتستان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر 7 جون کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو وہ دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کریں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر ماضی میں کام شروع کیا گیا تھا اور اس منصوبے کے حوالے سے متعدد پیکجز اور اعلانات بھی کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق اگر ان کی حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنے کا موقع ملتا تو آج یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی عوام سے مختلف وعدے کیے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے کئی وعدے آج تک پورے نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کے لیے اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ پورے پاکستان کی ضرورت بھی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں گلگت بلتستان کو شناخت ملی اور اسی دور میں دیامر بھاشا ڈیم پر عملی پیش رفت بھی ہوئی۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جماعتیں صرف دعوے کرتی ہیں، لیکن عوام کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انہوں نے عملی طور پر کیا کام کیے ہیں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ملک میں مختلف ترقیاتی منصوبے، ٹرانسپورٹ سسٹمز اور انفراسٹرکچر کے منصوبے ایسے اقدامات کی وجہ سے ممکن ہوئے جو ماضی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیے تھے۔ ان کے مطابق سی پیک اور اٹھارویں ترمیم جیسے اقدامات نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے سیاسی مخالفین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام کو ماضی کے فیصلوں اور کارکردگی کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کرنا چاہیے۔
سیو آور پاک
