پنجاب میں سینیٹ انتخاب کا مرحلہ مکمل ہو گیا، جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ خان کامیاب ہوکر نئے سینیٹر منتخب ہوگئے۔ جیت کے اعلان کے ساتھ ہی لیگی کارکنان نے ان کے حق میں پرجوش نعرے بازی کی اور پھول نچھاور کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
رانا ثناء اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے جمہوری پراسیس کا بائیکاٹ کرکے الیکشن سے راہِ فرار اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پہلے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے، جانچ پڑتال کا عمل مکمل کروایا اور پھر ہائیکورٹ سے رجوع کیا، لیکن اسٹے آرڈر نہ ملنے پر اچانک بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ دراصل اپنے ہی ممبران پر عدم اعتماد ہے۔ رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے 10 سے 12 اراکین نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ووٹ کاسٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن انہوں نے منع کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے امیدوار کو ہی ووٹ دیں۔
اپنی کامیابی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی کابینہ ایک ٹیم کی طرح ہے اور ہر وزیر اپنی ذمہ داری اچھے انداز سے ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھاتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی جو ذمہ داری شہباز شریف دیں گے، اسے ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے آخر میں کہا کہ تمام وزراء اپنی اپنی جگہ پر بہترین انداز سے کام کر رہے ہیں اور کابینہ میں ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کی تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔
سیو آور پاک
