کراچی: قیوم آباد میں کم عمر بچوں سے بدسلوکی کے ہولناک کیس میں گرفتار شخص نے دورانِ تفتیش حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کئی سالوں سے اس جرم میں ملوث تھا اور بچوں کے حوالے سے ایک خفیہ فہرست بھی تیار کر رکھی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے پہلے علاقے میں پرچون کی دکان اور اسٹیشنری کا سامان بیچنے کا کاروبار شروع کیا تاکہ چھوٹے بچوں کو اپنے قریب لاسکے۔ رپورٹ کے مطابق وہ بچوں کو مختلف بہانوں سے اپنے پاس بلاتا اور پھر جرم کا ارتکاب کرتا۔
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم 2011 میں ایبٹ آباد سے کراچی منتقل ہوا اور 2016 میں قیوم آباد میں شربت کا ٹھیلا لگایا، جہاں سے اس کے جرائم کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس کے مطابق وہ کئی سالوں سے علاقے کے بچوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کے پاس ایک ڈائری بھی ملی جس میں بچوں کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ اس کے علاوہ اس کے موبائل اور یو ایس بی ڈرائیوز سے سینکڑوں ویڈیوز برآمد ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ایک بچی نے اس کی یو ایس بی ایک موبائل شاپ پر دے دی تھی جس کے بعد اس کے خلاف تمام ثبوت پولیس کے ہاتھ لگ گئے اور راز فاش ہوگیا۔
پولیس اب ملزم کے جرائم کی مکمل چھان بین کر رہی ہے تاکہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف دلایا جاسکے۔
سیو آور پاک
