اسلامی نظریاتی کونسل کے تازہ اجلاس میں کئی اہم اور دور رس نتائج والے فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران کونسل نے واضح کیا کہ دیت کے قانون میں موجود شرعی مقداریں—سونا، چاندی اور اونٹ—قانون کا حصہ رہیں گی۔ پیش کردہ ترمیمی بل میں چاندی کو حذف کرنے اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنانے کی تجویز دی گئی تھی، مگر کونسل نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
اسی طرح انسولین کے بارے میں کونسل کا کہنا ہے کہ جب حلال اجزاء والی انسولین دستیاب ہے تو پھر خنزیر کے اجزاء پر مشتمل انسولین کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔
کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہادت کے لیے رکھے گئے وہ قرآنی نسخے جن پر ناپاک اجزاء لگ جائیں، شہادت ریکارڈ ہونے کے فوراً بعد پاک کیے جائیں اور اس سلسلے میں مناسب قانون سازی ضروری ہے۔
کونسل نے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی غیر شرعی قرار دیا اور کہا کہ رقم نکالنے یا منتقل کرنے پر ٹیکس لگانا زیادتی کے مترادف ہے۔
مزید یہ کہ کونسل نے کہا کہ انسانی دودھ کے ذخیرہ کرنے والے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم ہو سکتے ہیں، مگر مفاسد سے بچاؤ کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور اس عمل میں کونسل کو شامل کیا جائے۔
کونسل نے 11 ستمبر کے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل نے کہا کہ غیر مدخولہ عورت کو طلاق کی صورت میں عدت اور نفقہ لازم قرار دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔
آخر میں کونسل نے ایک منفرد تجویز بھی دی کہ ایک خصوصی رنگ ٹون تیار کی جائے جس کے ذریعے شہریوں کو ماہِ ربیع الاول میں مقدس کلمات اور تحریرات والے بینرز، جھنڈوں اور جھنڈیوں کا احترام کرنے اور ان کی بے حرمتی سے بچنے کی تلقین کی جائے۔
سیو آور پاک
