دمشق (24 ستمبر 2025): ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام براک نے اعتراف کیا ہے کہ تیونس میں عالمی صمود فلوٹیلا پر ہونے والے حملوں میں اسرائیل ملوث ہے۔
ٹام براک کے مطابق اسرائیل نے ان بحری جہازوں پر حملہ کیا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔ یہ بحری جہاز تیونس کے دارالحکومت کے قریب سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر موجود تھے جب انھیں ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
امریکی ایلچی نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل شام، لبنان اور تیونس تک میں کارروائیاں کر رہا ہے اور اس مسلسل جارحیت سے حزب اللہ کا مؤقف مزید مضبوط ہوتا ہے۔
تیونس کی حکومت اب تک اس معاملے پر خاموش ہے جبکہ ملک کے اندر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات اور ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
رواں ماہ 9 ستمبر کو عالمی صمود فلوٹیلا کی تنظیمی کمیٹی نے انکشاف کیا تھا کہ اس کے ایک بحری جہاز پر نامعلوم ڈرون نے حملہ کیا۔ اس سے ایک دن قبل بھی اسی قافلے کی ایک اور کشتی پر اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا۔
یہ بحری قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہے جس کا مقصد اسرائیلی محاصرہ توڑ کر مظلوم فلسطینیوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء پہنچانا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے انسانی حقوق کے کارکن، سیاستدان اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں، جن میں جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شریک ہیں۔
سیو آور پاک
