جمعہ , 19 جون 2026 | 1 USD = 278.347319 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 454000.00 روپے
پنجاب کا 5.131 کھرب روپے کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا
پنجاب کا 5.131 کھرب روپے کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا

پنجاب کا 5.131 کھرب روپے کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا

لاہور: پنجاب حکومت مالی سال 2026-27 کے لیے 5.131 کھرب روپے کا بجٹ 16 جون کو پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بجٹ اجلاس کے شیڈول کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت مجموعی طور پر 5.131 کھرب روپے کا بجٹ پیش کرے گی، جس میں ترقیاتی اخراجات کا حصہ تقریباً 47 فیصد متوقع ہے۔ وفاقی حکومت کو دی جانے والی مالی رعایت کے باوجود پنجاب نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترقیاتی بجٹ اور آمدن

مالی سال کے دوران پنجاب کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3.569 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبائی اخراجات پورے کرنے کے بعد تقریباً 1.562 کھرب روپے ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی انتظام کے لیے دستیاب ہوں گے۔

پنجاب حکومت پہلے ہی وفاق کو 570 ارب روپے کی مالی رعایت فراہم کر چکی ہے، جبکہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبے کو 3.793 کھرب روپے موصول ہونے کی توقع ہے۔ آئندہ مالی سال میں صوبائی آمدن 1.330 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین، پنشن اور کم از کم اجرت

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 505.8 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ وفاقی حکومت کے حالیہ فیصلوں کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

اس کے علاوہ آپریشنل اخراجات کے لیے 580.2 ارب روپے، پروگرام سرمایہ کاری کے لیے 221.9 ارب روپے اور بیرونی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ستھرا پنجاب پروگرام اور سماجی تحفظ

مجوزہ بجٹ میں پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے 25 ارب روپے جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے بڑے فنڈز

صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 680 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ مفت ادویات کی فراہمی کے لیے 100 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ کینسر اور فالج کے مریضوں کے علاج و ادویات کے لیے بھی علیحدہ فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

تعلیم پر خصوصی توجہ

تعلیم کو بجٹ میں سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جہاں 900 ارب روپے سے زائد رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ حکومت طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ، الیکٹرک اسکوٹی اور سائیکل اسکیموں کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 20 ارب روپے سے زائد جبکہ جامعات کے گرانٹس کے لیے تقریباً 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے خصوصی منصوبے

وزیراعلیٰ پنجاب کے جاری منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پرواز کارڈ پروگرام کے لیے 7 ارب روپے اور کسان کارڈ اسکیم کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح ہمت کارڈ اور اقلیتی کارڈ پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

رمضان پیکیج اور سبسڈیز

عوامی ریلیف کے لیے رمضان پیکیج کے تحت 35 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مختلف سبسڈی پروگراموں کے لیے 80 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔

کابینہ سے منظوری کا مرحلہ

بجٹ کو پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منگل کے روز کابینہ کا اجلاس طلب کر رکھا ہے، جس میں بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا اور حتمی منظوری دی جائے گی۔

اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری

ذرائع کے مطابق پنجاب کے محکمہ خزانہ نے 16 جون کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے محکمہ قانون کو سمری ارسال کر دی ہے۔ محکمہ قانون اب اسمبلی اجلاس کی باضابطہ منظوری کے لیے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو سمری بھجوائے گا۔

About A.M JAN

Check Also

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ, ایک ہفتے میں ایران سے معاہدہ ہونے کی پیشگوئی

ٹرمپ کا بڑا دعویٰ, ایک ہفتے میں ایران سے معاہدہ ہونے کی پیشگوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ایک ہفتے …

جواب دیں