خضدار کے علاقے زہری میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشتگرد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، خفیہ معلومات ملنے پر فورسز نے فوری طور پر آپریشن شروع کیا۔ اطلاعات تھیں کہ دہشتگرد پہاڑی علاقوں میں چھپ کر نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ مقامی آبادی کو بھی ہراساں کر رہے ہیں۔
آپریشن میں گراؤنڈ فورسز کے ساتھ ہیلی کاپٹرز کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے تیار شدہ آئی ای ڈیز، امریکی ساختہ خودکار ہتھیار، ٹرانسمیٹرز، دستی بم، گولیاں اور موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔
اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی جانب سے بدوکشت کے مرکزی پل پر نصب بڑی آئی ای ڈی کو بھی کامیابی سے ناکارہ بنا دیا، جو بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتی تھی۔
حکام کے مطابق یہ گروہ براہِ راست انڈیا کی ایماء پر بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ فورسز نے واضح کر دیا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
سوال: خضدار آپریشن میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوئے؟
جواب: خضدار کے زہری علاقے میں آپریشن کے دوران 7 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ 10 زخمی ہو گئے۔
سوال: آپریشن کے دوران کیا اسلحہ برآمد ہوا؟
جواب: دہشتگردوں سے خودکار ہتھیار، آئی ای ڈیز، دستی بم، ٹرانسمیٹرز اور موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔
سوال: دہشتگرد کس کے ایماء پر کارروائیاں کر رہے تھے؟
جواب: حکام کے مطابق دہشتگرد انڈیا کی ایماء پر بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔
سوال: آپریشن میں کون سی فورسز شامل تھیں؟
جواب: گراؤنڈ فورسز کے ساتھ ہیلی کاپٹرز بھی آپریشن میں شامل رہے۔
سوال: کیا آپریشن اب بھی جاری ہے؟
جواب: جی ہاں، حکام کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
سیو آور پاک
