جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 278.942926 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
 وفاق المدارس نے بڑا اعلان کر دیا  مدارس کو دہشت گردی کے الزام سے نجات کا حکم
 وفاق المدارس نے بڑا اعلان کر دیا  مدارس کو دہشت گردی کے الزام سے نجات کا حکم

 وفاق المدارس نے بڑا اعلان کر دیا  مدارس کو دہشت گردی کے الزام سے نجات کا حکم

صدر وفاق المدارس، مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی قیادت میں وفاق المدارس العربیہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جے یو آئی کے سربراہ و سرپرستِ اعلیٰ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر قائدین اور نمائندے شامل تھے۔ اجلاس نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں دینی مدارس کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط بیانیوں اور الزامات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے میں کچھ حلقوں کی طرف سے دینی مدارس کو عسکری تحریکوں یا دہشت گردی کے واقعات سے منسلک کیا جا رہا تھا۔ ایسی خبریں اور پراپیگنڈہ نہ صرف مدارس کی ساکھ متاثر کرتا ہے بلکہ نوجوانوں میں غلط فہمی بھی پیدا کرتا ہے۔ اسی باعث وفاق المدارس نے فوری طور پر معاملے کی تحقیقات اور ردِعمل کے لیے یہ اجلاس بلایا۔

  • اجلاس نے واضح الفاظ میں کہا کہ دینی مدارس کا کسی بھی قسم کی عسکری کاروائی یا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات اعلامیہ میں باقائدہ درج ہے۔
  • شرکاء نے ان تمام قوتوں کی مذمت کی جنہوں نے مدارس کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبریں اور افواہیں چلائیں۔
  • اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے واحد اور جائز راستہ پر امن جدوجہد ہے؛ ہتھیار اٹھانا بالکل غلط اور ناقابل قبول ہے۔
  • پاکستان کے علماءِ کرام نے ہمیشہ مسلح تنظیموں کی مخالفت کی ہے — یہ روایت اور موقف مسلسل برقرار ہے۔

مدارس کے لیے ہدایات اور آئندہ کے اقدامات

  • وفاق المدارس نے تمام مدارس اور علما سے کہا ہے کہ وہ فوراً کسی بھی بے بنیاد پراپیگنڈی کو تردید کریں اور اپنے حلقوں میں سچائی پھیلائیں۔
  • مجالس اور درسگاہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک یا حساس خبر کی تأیید کیے بغیر نشر نہ کریں؛ پہلے حقائق جانچیں، پھر بیان جاری کریں۔
  • وفاق المدارس عوام کو بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ ذرائعِ ابلاغ میں آنے والی خبریں سنبھل کر دیکھیں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔

دینی مدارس پاکستان کے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اگر ان پر بے بنیاد الزامات لگتے رہیں تو:

  • طلبہ کا ذہنی سکون متاثر ہوگا۔
  • عوامی اعتبار میں کمی آئے گی اور تعلیم کا ماحول متاثر ہوگا۔
  • انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والی صحت مند آوازیں بھی دب سکتی ہیں۔
    اسی لیے وفاق المدارس کا پختہ موقف — کہ مسائل کا حل امن اور علمی روشنی میں ہے — ملک کے لیے مثبت پیغام ہے۔

وفاق المدارس العربیہ کے اس اجلاس نے واضح کر دیا کہ دینی مدارس کا عسکری کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور شریعت کے نفاذ کے لیے پر امن راستہ ہی واحد درست طریقہ ہے۔ اجلاس نے مدارس کو ہدایت دی کہ وہ فوراً اشاعتِ حقیقت کریں اور بے بنیاد پراپیگنڈی کو بےنقاب کریں۔کال ٹو ایکشن: اگر آپ کے پاس ایسے کوئی شواہد یا خبریں ہیں جو درست معلوم نہیں ہوتیں تو انہیں شیئر نہ کریں — پہلے صحیح ذرائع سے تصدیق کریں اور مدارس کی ساکھ کو بچانے میں مدد کریں۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں