لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے بالآخر نواز شریف کینسر ہسپتال کے پہلے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل دے دی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد 13 رکنی بورڈ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جس نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ وزرا صحت اور مشیران کو اس اہم بورڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا، مگر اس پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ پنجاب خود اس بورڈ کی چیئرپرسن ہوں گی، جبکہ خزانہ، قانون، صحت اور پی اینڈ ڈی محکموں کے سیکریٹریز کو اہم رکنیت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، نواز شریف کینسر ہسپتال کے ڈین اور ہاسپٹل ڈائریکٹر کو بھی بطور رکن شامل کیا گیا ہے، تاکہ ہسپتال کے انتظامی فیصلوں میں براہِ راست طبی نقطہ نظر شامل رہے۔
مزید یہ کہ، سابق چیف سیکریٹری کیپٹن (ر) زاہد سعید، پروفیسر زیبا عزیز، پروفیسر حسن پرویز اور محمد علی لطیف کو بھی بورڈ آف گورنرز کا حصہ بنایا گیا ہے۔
حیران کن طور پر، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو بھی بورڈ میں شامل کر لیا گیا ہے، جس سے ہسپتال کے اندرونی معاملات پر مزید دلچسپی بڑھ گئی ہے۔یہ بورڈ تین سالہ مدت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور آئندہ دنوں میں اپنی باقاعدہ کارروائیاں شروع کرے گا۔
سیو آور پاک
