خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر بیرسٹر گوہر علی نے واضح مؤقف دے دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ان سے منسوب یہ بیان کیا گیا کہ علی امین کو ہٹانے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ زیرِ غور ہے۔
ان کے مطابق، یہ بیان دراصل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے باضابطہ طور پر جاری ہوا تھا، جس کے بعد میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں پھیل گئیں۔
دوسری جانب، علی امین گنڈا پور کے پریس سیکرٹری کی جانب سے ایک بیان پشاور سے میڈیا کو بھجوایا گیا، جس میں کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر نے پارٹی کے اندر تقسیم کی بات کی ہے۔
تاہم بیرسٹر گوہر نے اس خبر کو مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے:
“میں نے علی امین گنڈا پور کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔ نہ ہی کسی میڈیا ادارے سے بات کی ہے۔ یہ سب میرے نام سے منسوب غلط خبر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے نہ تو کسی کو عہدے سے ہٹانے کا ذکر کیا اور نہ ہی پارٹی میں کسی سازش کا لفظ استعمال کیا۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے پارٹی کے اندرونی معاملات کو ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا دیا ہے، جبکہ علی امین گنڈا پور کے مستقبل سے متعلق افواہیں بدستور گردش کر رہی ہیں۔
سیو آور پاک
