ملک عامر ڈوگر نے تازہ سیاسی بیانات میں ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے کلمات نے نہ صرف قومی مباحثے کو متحرک کیا بلکہ کئی اہم تجاویز بھی سامنے لائیں جو موجودہ سیاسی صورتحال کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارے بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں” — یہ جذباتی اور حوصلہ افزا بیان قومی شعور جگانے والا ہے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ شہداء کی یاد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے نام پر سنجیدہ پالیسی مباحثے ہونے چاہیے۔
ملک عامر کا مؤقف ہے کہ افغانستان کو علاقائی حکمتِ عملی میں شامل کرنا ضروری ہے — صرف فوجی سرحدی نقطۂ نظر کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی مذاکرات اور حکمتِ عملی اشتراک کے ذریعے علاقائی استحکام ممکن ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی کارروائی کا انحصار مضبوط انٹیلیجنس اور شواہد پر ہونا چاہیے، تاکہ غیر ضروری جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے اور کارروائیاں موثر ہوں۔
"یہ ملک بھی ہمارا ہے، اس کی فوج بھی ہماری ہے” — اس بیان میں وطنیت اور یکجہتی کا پیغام پوشیدہ ہے۔ ملک عامر نے فوجی و شہری اداروں کے درمیان اعتماد کی ضرورت پر بھی بات کی۔
انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ فلسطین کے بارے میں بعض مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اور یاد دلایا کہ ماضی میں بانی تحریک نے اقوامِ متحدہ میں واضح موقف اختیار کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا — ایک ایسا موقف جو عوامی حساسیت سے جڑا ہوا ہے۔
ملک عامر نے مطالبہ کیا کہ اہم بین الاقوامی معاہدوں — مثلاً سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے — کو ایوان میں زیرِ بحث لایا جائے تاکہ شفافیت اور پارلیمانی اعتماد بحال ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ براہِ راست آئیں اور ایوان کو اعتماد میں لیں۔
ان کا کہنا ہے کہ "ملک میں قانون اور انصاف کا جنازہ نکال دیا گیا ہے” — یعنی عدالتی و قانونی نظام پر گہری تشویش موجود ہے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاسی قیدی رہا کیے جائیں اور عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے تاکہ سیاسی عدل اور استحکام بحال ہو۔
سیو آور پاک
