ڈھاکہ (خصوصی رپورٹ، سلیم رضا) : بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے میرپور روپ نگر میں ایک گارمنٹس پرنٹنگ فیکٹری اور کیمیکل گودام میں لگنے والی آگ نے قیامت خیز منظر پیدا کر دیا۔
اب تک 16 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، جبکہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔
فائر سروس کے مطابق، گودام میں موجود 6 سے 7 اقسام کے خطرناک کیمیکل نے آگ کو بےقابو کر دیا۔ حکام نے بتایا کہ کیمیکل کی نوعیت ایسی ہے کہ دھماکے کا خطرہ کسی بھی وقت بڑھ سکتا ہے۔
آگ اتنی شدید تھی کہ فیکٹری کی دیواریں تک پگھل گئیں اور قریبی عمارتوں میں دھواں بھر گیا۔
تین جھلسے ہوئے مزدور — مو سورج (30)، محمد مامون (35) اور سہیل — کو نیشنل برن انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اموات کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ کئی مزدور اب بھی لاپتہ ہیں۔
ڈھاکہ فائر سروس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ آگ کو “دفاعی انداز” میں قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کیمیکل کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ علاقے سے دور رہیں اور کسی بھی ممکنہ دھماکے کے لیے تیار رہیں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والے تمام افراد گارمنٹس فیکٹری اور گودام کے مزدور تھے۔
لاشوں کو ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال کے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
فائر سروس کے ایک افسر نے شبہ ظاہر کیا کہ کیمیکل کا غیر محفوظ ذخیرہ یا شارٹ سرکٹ ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈھاکہ میں درجنوں ایسی فیکٹریاں موجود ہیں جہاں کیمیکل کا غیر قانونی ذخیرہ جاری ہے۔
اگر حکام نے بروقت کارروائی نہ کی تو مزید بڑی تباہیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
سیو آور پاک
