اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کا نیا فریم ورک شروع کرنے پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔
یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو نئی سمت دینے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات اور اسلامی بھائی چارے کی مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتی ہے۔ فریم ورک کا مقصد تجارتی، سرمایہ کاری، صنعتی اور ترقیاتی شعبوں میں طویل المدتی تعاون کو فروغ دینا ہے، جس سے نجی شعبے کا کردار بھی نمایاں طور پر بڑھے گا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے رہنما توانائی، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت، اور فوڈ سیکیورٹی جیسے کلیدی شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر متفق ہیں۔
اسی سلسلے میں توانائی اور بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقتصادی فریم ورک دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار ترقی، مشترکہ خوشحالی، اور اسلامی یکجہتی کے جذبے کو مزید تقویت دے گا۔
مزید یہ کہ فریم ورک دونوں ممالک کی قیادت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنے عوام کی ترقی، روزگار کے مواقع اور خطے میں اقتصادی استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔
دونوں رہنما جلد ہی سعودی-پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں اس فریم ورک کے عملی نفاذ پر مزید بات چیت ہوگی۔
سیو آور پاک
