غزہ (بین الاقوامی خبر): اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے تازہ حکم کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ شہر پر شدید فضائی حملے کیے، جن میں 100 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنی فوج کو فوری اور بھرپور کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پورے غزہ میں بمباری کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، یہ کارروائی حماس کی مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد کی گئی، جب جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ ہوا تھا۔
منگل کی رات نیتن یاہو کے حکم کے فوراً بعد، اسرائیلی فضائیہ نے غزہ شہر کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں الشفاء اسپتال کے عقب میں گرنے والا میزائل بھی شامل ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گزشتہ رات سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 104 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 46 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں، جب کہ 253 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں ایک معروف فلسطینی صحافی محمد المنیراوی اور ان کی اہلیہ بھی شہید ہو گئے، جو النصیرات کے ایک خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
الجزیرہ کے مطابق، غزہ کے مختلف علاقوں میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور امدادی کارروائیاں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں حملہ حماس یا کسی دوسرے گروہ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا جوابی ردِعمل اسرائیل کی طرف سے متوقع تھا۔
تاہم، حماس نے رفح کے قریب ہونے والے واقعے میں کسی قسم کی شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔
سیو آور پاک
