گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی): لیبیا کشتی حادثے میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث دو افراد کے خلاف گوجرانوالہ کی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 20، 20 سال قید بامشقت اور 14، 14 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔
تفصیلات کے مطابق سپیشل جج سینٹرل گوجرانوالہ کی عدالت میں زیرِ سماعت کیس نمبر 2023/222 کا فیصلہ سنایا گیا، جس میں ندیم اسلم اور محمد اسلم کو قصوروار قرار دیا گیا۔ عدالت نے انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں سنائیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دونوں مجرموں کو امیگریشن آرڈیننس کے تحت 20 سال قید بامشقت اور 8 لاکھ روپے جرمانہ، جب کہ سمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ کے تحت مزید 20 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان نے اللہ دتہ نامی شہری سے 25 لاکھ روپے وصول کر کے اسے غیر قانونی طور پر لیبیا کے راستے اٹلی بھجوانے کی کوشش کی۔ تاہم 2023 کے لیبیا کشتی حادثے میں مذکورہ شہری لاپتہ ہو گیا تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق شریک ملزم محمد ممتاز کو پہلے ہی اسی کیس میں 20 سال قید اور 14 لاکھ روپے جرمانہ ہو چکا ہے۔ مجرم ندیم اسلم اور محمد اسلم دونوں 2023 کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھے، جب کہ ان کے خلاف مقدمہ نمبر 23/203 میں بھی عدالت نے 40 سال قید بامشقت اور 28 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت پیغام ہے تاکہ مزید لوگ ایسے غیر قانونی راستوں سے باز رہیں۔
سیو آور پاک
