لاہور (نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے بھاری جرمانوں اور لائسنس معطلی کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹریفک جرمانے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب کسی بھی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 20 ہزار روپے تک کا چالان ہوسکتا ہے۔
ٹریفک حکام کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو ہر خلاف ورزی پر دو ہزار روپے کا چالان ادا کرنا ہوگا۔
اسی طرح دو ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں کیلئے اوور اسپیڈنگ پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق ہر خلاف ورزی پر 2 سے 4 پوائنٹس تک کی کٹوتی کی جائے گی۔
اگر کوئی ڈرائیور ایک سال میں 20 پوائنٹس سے زیادہ خلاف ورزیاں کرتا ہے تو اس کا ڈرائیونگ لائسنس 2 ماہ سے لے کر 1 سال تک کے لیے معطل کیا جا سکے گا۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال 100 سے 500 روپے تک جرمانے وصول کیے جا رہے تھے، تاہم اب ان جرمانوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ شہری قوانین کی پابندی کریں۔
مزید بتایا گیا کہ:
- ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر 15 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا، اور 4 پوائنٹس کٹیں گے۔
- اوورلوڈنگ پر 15 ہزار روپے تک جرمانہ اور 4 پوائنٹس کی کٹوتی کی جائے گی۔
- ون وے کی خلاف ورزی پر بھی 15 ہزار روپے تک چالان ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تجاویز کابینہ سے منظوری کے بعد قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جائیں گی تاکہ باضابطہ طور پر قوانین میں ترمیم کی جا سکے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو قوانین کی پاسداری کی ترغیب دینا اور حادثات میں کمی لانا ہے۔
سیو آور پاک
