اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): پاکستان کی سپریم کورٹ ایک بار پھر بڑے ہلچل کا شکار ہوگئی ہے، جب جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے باقاعدہ طور پر اپنا استعفیٰ صدر مملکت آصف علی زرداری کو ارسال کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایمانداری، دیانت اور ادارے کی عزت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا،
"میرا ضمیر مطمئن ہے، میں نے پوری نیک نیتی سے عدلیہ کی خدمت کی اور اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اس ترمیم نے انصاف کو عوام سے دور کر دیا اور عدلیہ کو طاقتور قوتوں کے سامنے کمزور کر دیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد عدالتِ عظمیٰ کی آزادی خطرے میں پڑ گئی ہے، اور ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق:
"میں ایسی عدالت کا حصہ نہیں رہ سکتا جس کا آئینی کردار چھین لیا گیا ہو۔ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ رہی ہے، مگر اب 27ویں ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ دیا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ترمیم بغیر کسی مشاورت یا عدلیہ کی رائے کے منظور کی گئی، اور اس کا مقصد صرف حکومت کو اپنی مرضی کے ججز تعینات کرنے کا اختیار دینا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، دونوں ججز کے استعفوں سے نہ صرف عدلیہ میں نیا بحران جنم لے چکا ہے بلکہ آئینی ترمیم پر بحث بھی مزید تیز ہو گئی ہے۔
سیو آور پاک
