وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور معروف صحافی احمد منصور کے درمیان آج ایک دلچسپ مکالمہ ہوا جس نے پورے ہال کا ماحول خوشگوار بنا دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران احمد منصور نے وزیراعلیٰ کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ پھر مسکراتے ہوئے کہا:
"سی ایم صاحب، اچھی بات ہے کہ آپ عمران خان کے اعتماد کے ساتھ یہاں آئے ہیں… مگر یاد رکھیں، یہی اعتماد عثمان بزدار پر بھی تھا۔ آپ وہ مت بن جانا!”
یہ جملہ سنتے ہی وزیراعلیٰ سمیت پورے ہال میں قہقہے چھوٹ پڑے اور فضا ایک دم ہلکی ہو گئی۔
بعد ازاں احمد منصور نے اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد پر کارروائیاں تو کرتی ہے، لیکن 90 فیصد ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ پراسیکیوشن کی اتنی کمزور کارکردگی پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
صحافی کے مطابق صوبے میں پراسیکیوشن کی کامیابی کی شرح صرف 10 فیصد ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔
اس پر وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ یہ واقعی انتہائی اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پراسیکیوشن کی خامیاں دور کرنے کے لیے فوری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اور حکومت قانون سازی پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ:
- مقدمات کی تفتیش بہتر ہو
- فیصلے جلد ہوں
- مجرموں کو لازمی سزا ملے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں کو سزا دلوانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بھی دعوت دی کہ وہ سی ٹی ڈی اصلاحات کے لیے اپنے تحریری مشورے حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔
سیو آور پاک
