نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں بڑھتے تنازعات عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں، اور ان مسائل کا حل صرف مذاکرات اور مؤثر سفارتکاری میں ہے۔
اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل نے جنوبی ایشیا کے ملکوں کے لیے نئے چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات اور معاشی دباؤ نے خطے کی صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، سیلابوں کی شدت اور غذائی قلت نے معیشتوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی کا ماحول بھی بہت پیچیدہ ہو چکا ہے، اسی لیے پاکستان ہمیشہ سے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں میں کئی خطرناک واقعات سامنے آئے۔ مئی میں پاک بھارت تناؤ کسی بڑے سانحے میں بدل سکتا تھا۔ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان بھی تشویش کا باعث ہے۔ اسی طرح اسرائیل نے فلسطین اور غزہ میں جس طرح بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا، وہ پوری انسانیت کے لیے شرمناک ہے۔
وزیرِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا دیرینہ حل نہیں نکلتا، خطے میں مستقل امن ممکن نہیں۔ یہ مسئلہ جنوبی ایشیا کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے، اس لیے یہاں کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کے ساتھ آگے آنا ہوگا۔ ان کے مطابق خطے کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور استحکام کا راستہ صرف بہتر علاقائی روابط سے ممکن ہے۔
سیو آور پاک
