جمعرات , 26 مارچ 2026 | 1 USD = 279.976926 PKR
ایک تولہ سونا ریٹ = 497000.00 روپے
 پنجاب میں 25 سال بعد بسنت واپسی حکومت نے نیا بڑا فیصلہ سنا دیا
 پنجاب میں 25 سال بعد بسنت واپسی حکومت نے نیا بڑا فیصلہ سنا دیا

 پنجاب میں 25 سال بعد بسنت واپسی حکومت نے نیا بڑا فیصلہ سنا دیا

پنجاب میں 25 سال بعد آخرکار پتنگ بازی کی رونقیں دوبارہ لوٹ آئی ہیں۔ محکمہ قانون پنجاب نے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دیتے ہوئے ایک نیا قانون جاری کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی سال 2001 کا پرانا پتنگ بازی قانون بھی ختم ہو گیا ہے۔

کائٹ فلائنگ ریگولیشن آرڈیننس کے مطابق اب 18 سال سے کم عمر بچے پتنگ نہیں اڑا سکیں گے۔ اگر کوئی بچہ قانون توڑتا ہے تو اس کی ذمہ داری والد یا سرپرست پر آئے گی۔ اس کے علاوہ پتنگ بازی کی تمام ایسوسی ایشنز کو اپنے اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹریشن کروانی ہوگی۔

پتنگیں اور ڈور اب صرف رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جا سکیں گی۔ ہر رجسٹرڈ دکاندار کو ایک QR کوڈ دیا جائے گا، تاکہ پتنگ یا ڈور بیچنے والے کی شناخت باآسانی ہو سکے۔ ڈور تیار کرنے والوں کی بھی باقاعدہ رجسٹریشن ہو گی اور ان کو بھی QR کوڈ سے منسلک کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے تحت بسنت کے لیے بھی سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ پتنگ بازی کا تمام سامان ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹر ہوگا، جبکہ پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنز کو بھی لازمی طور پر رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے کسی صورت پتنگ بازی میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور خلاف ورزی کی ذمہ داری والدین پر ہوگی۔

پتنگ اڑانے کے لیے صرف دھاگے والی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ تیز دھار، دھاتی یا کیمیکل والی ڈور کے استعمال پر سخت سزائیں رکھی گئی ہیں، جن میں کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کے ساتھ بیس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی شامل ہے۔

قانون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ضلع بھر میں موٹر سائیکل چلانے کے لیے حفاظتی تدابیر ضروری ہوں گی۔ اس کے علاوہ مشکوک گھروں یا مقامات کی تلاشی بھی لی جا سکے گی اور ایسے جرائم کی ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی۔

18 سال سے کم عمر افراد کی پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو والد یا سرپرست کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پتنگ بازی کے علاقوں میں عام موٹر سائیکلوں کا داخلہ بند ہوگا اور صرف حفاظتی انتظامات والے موٹر سائیکلوں کو اجازت ملے گی۔
شکایت کرنے والے شہری (وسل بلوئر) کی قانونی مدد اور حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔

آخر میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہر پتنگ پر بھی QR کوڈ ہوگا، جس سے پتنگ تیار کرنے اور بیچنے والے کی شناخت آسانی سے ہو سکے گی۔ ڈور بنانے والوں کو بھی اسی سسٹم کے تحت رجسٹر کیا جائے گا۔

About A.M JAN

Check Also

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

پیٹرول مہنگا نہیں ہوگا؟ صدر زرداری کا بڑا حکم سامنے آگیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ معاشی فیصلوں میں …

جواب دیں