وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کاروبار سے متعلق تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ وہ اپنے لیے خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں کاروباری طبقے، چھوٹے کسانوں اور مختلف شعبوں کو قرض فراہم کرنے کے موجودہ نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سہولت کاری، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض دینے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زرعی شعبے کو قرض فراہم کرنے کے طریقے کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جائے تاکہ کسانوں کو بروقت مالی مدد مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر قرض دیے جائیں تاکہ ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر قرض دیا جائے کیونکہ یہ شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے جامع پالیسی بنانے کی ہدایت بھی دی اور کہا کہ ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس میں مزید ہدایت کی کہ مشیر ہارون اختر اپنی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور تمام صوبوں کا دورہ کریں تاکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کاروباری طبقے اور کسانوں کے مسائل کا جائزہ لیا جا سکے اور قابلِ عمل تجاویز تیار کی جا سکیں۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کل کوئٹہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ دانش اسکول کا افتتاح کریں گے۔ اس کے ساتھ وہ بلوچستان میں امن و امان اور سیکیورٹی سے متعلق اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ اس موقع پر ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت صوبائی حکام اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
سیو آور پاک
